Saturday, 9 April 2022

کیوں ہٹاؤں نظر کتابوں سے

 کیوں ہٹاؤں نظر کتابوں سے

ہے مِرا سب گزر کتابوں سے

آپ پھولوں سے سجائیں گھر کو

ہم سجاتے ہیں گھر کتابوں سے

اپنی آنکھوں کو بیچ ڈالیں وہ

جن کو لگتا ہے ڈر کتابوں سے

سارے جاہل ہیں اس قبیلے میں

اب ہیں خالی نگر کتابوں سے

اچھے بچے ہی کیا کرتے ہیں

گفتگو رات بھر کتابوں سے

سچ جو پوچھو تو میں نے سیکھا ہے

سارا غازل! ہنر کتابوں سے


غازل غدیر

No comments:

Post a Comment