Thursday, 5 August 2021

میں نے جب جب بھی ترا نام لکھا کاغذ پر

 میں نے جب جب بھی تِرا نام لکھا کاغذ پر

یوں لگا جیسے کوئی پھول کھلا کاغذ پر

ایک مدت سے ملاقات کو بے چین ہے دل

بھیج دے لکھ کے مجھے اپنا پتا کاغذ پر

خط تِرا جب بھی کوئی میں نے پرانا کھولا

تو اُبھر آیا حسیں نقش تِرا کاغذ پر

لکھنے بیٹھا ہوں تِرے نام کوئی خط جب بھی

آنکھ سے اشک گِرا ثبت ہوا کاغذ پر

چارہ گر آ کہ سوا درد جگر ہوتا ہے

بھیج دے لکھ کے مجھے ورنہ دوا کاغذ پر

تجھ کو اظہارِ محبت کی قسم اتنا بتا

بے وفا کیوں کِیا اظہارِ وفا کاغذ پر

کیا ہے تقدیر میں اللہ خبر رکھتا ہے

کون پڑھتا ہے مقدر کا لکھا کاغذ پر

داد و تحسین کی کانوں میں صدائیں گونجیں

جب بھی گوہر نے کوئی شعر کہا کاغذ پر


تنویر گوہر

No comments:

Post a Comment