یادوں سے تیری پیچھا چھڑایا نہ جا سکا
بے نام سا وہ رشتہ بھلایا نہ جا سکا
کس اعتماد سے وہ کرے اب وفا کی بات
معمولی وعدہ جس سے نبھایا نہ جا سکا
ظلمت کے سب خلاف ہیں لیکن ستم یہ ہے
اک بھی یہاں چراغ جلایا نہ جا سکا
دل کے لہو سے رنگ بھرا جس خیال میں
جب نقش بن گیا تو مٹایا نہ جا سکا
رستوں کی دھول ہو گئے مجبور ہو گئے
دیوارِ تیرگی کو گرایا نہ جا سکا
رہتا ہے کون میرے تعاقب میں رات دن
میں بھاگ بھاگ تھک گئی سایہ نہ جا سکا
رستے بھی دلفریب تھے منزل بھی دلربا
لیکن کسی کو چھوڑ کے جایا نہ جا سکا
ہم زندگی کا بوجھ اٹھائیں گے کس طرح
اک بارِعشق ہم سے اٹھایا نہ جا سکا
میں شہرِ خواب سے تو نکل آئی ہوں غزل
آنکھیں کھلی ہیں ہوش میں آیا نہ جا سکا
رقیہ غزل
No comments:
Post a Comment