Thursday, 15 April 2021

یادوں سے تیری پیچھا چھڑایا نہ جا سکا

 یادوں سے تیری پیچھا چھڑایا نہ جا سکا

بے نام سا وہ رشتہ بھلایا نہ جا سکا

کس اعتماد سے وہ کرے اب وفا کی بات

معمولی وعدہ جس سے نبھایا نہ جا سکا

ظلمت کے سب خلاف ہیں لیکن ستم یہ ہے

اک بھی یہاں چراغ جلایا نہ جا سکا

دل کے لہو سے رنگ بھرا جس خیال میں

جب نقش بن گیا تو مٹایا نہ جا سکا

رستوں کی دھول ہو گئے مجبور ہو گئے

دیوارِ تیرگی کو گرایا نہ جا سکا

رہتا ہے کون میرے تعاقب میں رات دن

میں بھاگ بھاگ تھک گئی سایہ نہ جا سکا

رستے بھی دلفریب تھے منزل بھی دلربا

لیکن کسی کو چھوڑ کے جایا نہ جا سکا

ہم زندگی کا بوجھ اٹھائیں گے کس طرح

اک بارِعشق ہم سے اٹھایا نہ جا سکا

میں شہرِ خواب سے تو نکل آئی ہوں غزل

آنکھیں کھلی ہیں ہوش میں آیا نہ جا سکا


رقیہ غزل

No comments:

Post a Comment