Thursday, 15 April 2021

جاگے کہ کوئی سوئے ہم فرض نبھا آئے

جاگے کہ کوئی سوئے ہم فرض نبھا آئے

ہم رات کی گلیوں میں آواز لگا آئے

معلوم نہیں ہم کو پھولوں میں چھپا کیا ہے

باتوں سے تو ظالم کی خوشبوئے وفا آئے

زخموں پہ کوئی مرہم رکھے یا نمک چھڑکے

ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنا آئے

اٹھتی چلی جاتی ہے دیوار گناہوں کی

کہہ دو یہ سمندر سے ساحل پہ چلا آئے

اندازِ نظر اس کا پاگل نہ کہیں کر دے

جب اس کی طرف دیکھوں آنکھوں میں نشہ آئے

یادوں کے دریچوں سے بچپن کی گلی جھونکے

راہی! مِرے آنگن میں ممتا کی ہوا آئے


حنیف راہی

No comments:

Post a Comment