کم نگہی
شہر کے باہر، ویرانے میں
اک پگڈنڈی پر تنہا سا
ننھا سا اک پیڑ کھڑا تھا
شاخیں اس کی چھوٹی چھوٹی
پتے کم کم
پھل بھی تھوڑے اِکا دُکا
جیسے کسی نے توڑ لیے ہوں
لیکن سایہ گھنا گھنا تھا
میں نے دیکھا
ایک مسافر اس کی چھاؤں میں سستاتا تھا
تھوڑی دیر میں وہ اُٹھ بیٹھا
ساماں اس نے سفر کا باندھا
اور سفر کی آسائش کو
پیڑ سے دو اک پھل بھی توڑے
ہرے ہرے کچھ پتے نوچے
گٹھری میں چُپکے سے رکھے
شہر کے رستے پر چلا نکلا
تھوڑی دور سے لوٹ کے دیکھا
پگڈنڈی پر پیڑ کھڑا تھا
ننھا سا، وہ تنہا تنہا
رہرو ٹھٹکا سوچ میں ڈُوبا
اپنے آپ سے وہ یوں بولا
اس ویراں سی پگڈنڈی پر
تنہا تنہا بے مصرف سا
پیڑ کھڑا ہے، کیا کرتا ہے؟
راج نرائن راز
No comments:
Post a Comment