لمحۂ وصل سے ہجراں کی عزاداری تک
یہ الاؤ نہ بُجھا آخری چنگاری تک
راہ بھٹکا ہے مگر جلد ہی لوٹ آئے گا
فاصلہ نیند سے کتنا سا ہے بیداری تک
اپنی بے زار طبیعت کے سبب ہم اکثر
کس سہولت سے چلے جاتے ہیں دشواری تک
تیری آشفتہ مزاجی کا نتیجہ ہے کہ آج
سلسلہ شوق کا جا پہنچا ہے بے زاری تک
سب سے پیچھے میں کھڑی دیکھتی اور سوچتی ہوں
پھول بِک جائیں نہ سارے ہی مِری باری تک
بات اب ترکِ تعلق کی مِرے ہاتھ نہیں
بات یہ پہنچی ہوئی ہے مِری خودداری تک
اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مظلوم تو مٹ جاتا ہے
ظلم کی عمر ہے ظالم کی طرفداری تک
شازیہ نورین
No comments:
Post a Comment