Tuesday, 20 July 2021

یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے

 یہ کیسی آگ مجھ میں جل رہی ہے

یہ کیسی برف مجھ میں گل رہی ہے

کوئی تسبیح مجھ میں پڑھ رہا ہے

کوئی قندیل مجھ میں جل رہی ہے

مسافر جا چکا لمبے سفر پر

ابھی تک دھوپ آنکھیں مل رہی ہے

سبھی باہوں کو پھیلائے کھڑے ہیں

قیامت ہے کہ ہر پل ٹل رہی ہے

مجھے سب دفن کر کے جا چکے ہیں

مگر یہ سانس اب تک چل رہی ہے

بہت روئے گی یہ لڑکی کسی دن

جو میرے ساتھ ہنس کر چل رہی ہے


اطہر ضیا

No comments:

Post a Comment