Tuesday, 20 July 2021

اے دشمن جاں تم کو میری مات مبارک

اے دشمنِ جاں تم کو میری مات مبارک

ابتر جو میرے ہیں رہے حالات مبارک

نا گفتہ بیاں ہیں جنہیں میں کہہ نہ سکی تھی

سینے میں سلگتے وہی جذبات مبارک

دشمن سے مل کے تم نے بہت ڈھائے ہیں ستم

کیا خوب ہیں اطوار و خیالات مبارک

کھل کر میرے رقیب سے تم آج ملے ہو

پر کیف کتنے ہوں گے وہ لمحات مبارک

بس ہم ہی تیری یاد میں مرتے رہے صدا

تم نے نہ خبر لی یہ عنایات مبارک

بُت بھرم کے توڑے گئے ہیں میرے صدا سے

اور کر نہ سکی ہوں میں شکایات مبارک

سیما چلی ہے دے کے، اپنی زندگی کو مات

تم خوش رہو یہ خوشیوں کی سوغات مبارک


سیما عباسی

No comments:

Post a Comment