Thursday, 16 December 2021

کیسے کھیلا ہے سمے کھیل کی چالوں کی طرح

 کیسے کھیلا ہے سمے کھیل کی چالوں کی طرح

ہائے پھر بیت گیا سال یہ سالوں کی طرح

روح کے زخم نظر آتے تو آتے کیسے

اس نے دیکھا تھا فقط دیکھنے والوں کی طرح

ہے رقم وہ ہی مِری زیست کے ہر صفحے پر

جزوِ لازم ہے وہ تمہید، حوالوں کی طرح

کوئی ترکیب منانے کی بتا دو سکھیو

ہے خفا مجھ سے وہ جنگل کے غزالوں کی طرح

سنگدل ایسا ہے وہ، سنگ بھی شرمانے لگے

سرد مہری با خدا برف کے گالوں کی طرح

اس کی یادیں یوں بکھرتی ہیں شبِ تِیرہ میں

مِرے کاندھوں پہ کھلے ریشمی بالوں کی طرح

لمحے بھر کو بھی جدا ہوتا نہیں غم مجھ سے

گھیرے رہتا ہے سدا چاند کے ہالوں کی طرح

جب تصور میں تِرا لمس کبھی یاد آئے

دینے لگتا ہے سکوں سرما کی شالوں کی طرح

رکھو مت گرتے پرندوں پہ نگاہیں مرکوز

کرو پرواز چٹانوں پہ منالوں کی طرح

حرص و لالچ کے اندھیروں میں نہ یوں ڈوبے رہو

چمکو اک بار کبھی شمس مثالوں کی طرح

جیت ہوتی ہے فقط جذبے سے طاقت سے نہیں

رکھنے ہیں حوصلے پھر زندہ جیالوں کی طرح

بڑی ہی قیمتی شے ہے یہ میرا دل جاناں

رکھو اس کو بھی حفاظت سے منالوں کی طرح

وہ جو دیکھے تو حسیں لب پہ تبسم آئے

سرخی گالوں پہ بکھر جائے گلالوں کی طرح


تبسم رضوی

No comments:

Post a Comment