Thursday, 16 December 2021

رہین واردات دل ہے نیر شاعری اپنی

رہین واردات دل ہے نیر شاعری اپنی

مرتب کر رہا ہوں میں غزل میں زندگی اپنی

جھکی ہے پائے جاناں پر جبین عاشقی اپنی

متاع دین و ایماں بن گئی ہے کافری اپنی

نہ اب وہ عہد رنگیں ہے نہ اب وہ زندگی اپنی

لبوں تک آتے آتے لوٹ جاتی ہے ہنسی اپنی

بڑی عظمت کی حامل ہے شراب عاشقی اپنی

مے و مینا پہ چھائی جاتی ہے پاکیزگی اپنی

نگاہ یار کا طرز تخاطب آہ کیا کہئے

خبر ہونے نہ پائی اور دنیا لٹ گئی اپنی

یہی مسرور نظریں جن میں دنیائے مسرت ہے

انہیں مسرور نظروں نے مسرت لوٹ لی اپنی

ادھر ہے کفر نازاں اس طرف ایمان نازاں ہے

یہ کس کے آستاں پر ہے جبین بندگی اپنی

ذرا تو بھی تو دیکھے دل پہ کیا عالم گزرتا ہے

عطا کر دے مری نظروں کو اک دن برہمی اپنی


مصطفیٰ حسین نیر

No comments:

Post a Comment