Thursday, 16 December 2021

ان کی ہر بات ہی اردو میں سند ہے حد ہے

 ان کی ہر بات ہی اردو میں سند ہے حد ہے

میرا لکھا ہوا ہر لفظ ہی رد ہے حد ہے

نذر تشکیک نہ کر پاک نگاہی کو مِری

تجھ سے ملنا بھی کوئی خواہش بد ہے حد ہے

ہر نئے پنچھی کو اڑنے نہیں دیتی دنیا

ہر کسی دل میں بھرا کینہ و کد ہے حد ہے

مجھ کو دیکھا جو سر بزم تو منہ پھیر لیا

اپنے وعدوں سے یہ اعراض عمد ہے حد ہے

پہلے خود ہی مرے خوابوں کو سبوتاژ کیا

اب ضرورت ہے مری اور اشد ہے حد ہے

یوں تو احباب کی تعداد زیادہ ہے مگر

اتنی مشکل میں رسد ہے نہ مدد ہے حد ہے

قیس کے در کا میں سجادہ نشیں ہوں لیکن

لوگ کہتے ہیں کہ تو اہل خرد ہے حد ہے


احمد عقیل

No comments:

Post a Comment