Thursday, 16 December 2021

آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

 آنکھوں میں رات خواب کا خنجر اتر گیا

یعنی سحر سے پہلے چراغ سحر گیا

اس فکر ہی میں اپنی تو گزری تمام عمر

میں اس کو تھا پسند تو کیوں چھوڑ کر گیا

آنسو مِرے تو میرے ہی دامن میں آئے تھے

آکاش کیسے اتنے ستاروں سے بھر گیا

کوئی دعا کبھی تو ہماری قبول کر

ورنہ کہیں گے لوگ؛ دعا سے اثر گیا

نکلی ہے فال اب کے عجب میرے نام کی

سورج ہی وہ نہیں ہے جو ڈھلنے سے ڈر گیا

پچھلے برس حویلی ہماری کھنڈر ہوئی

برسا جو اب کے ابر تو سمجھو کھنڈر گیا

میں پوچھتا ہوں تجھ کو ضرورت تھی کیا نظام

تو کیوں چراغ لے کے اندھیرے کے گھر گیا


شین کاف نظام

No comments:

Post a Comment