وصیت
دمِ وِداع ہے یہ کیسا عجب خیال آیا
کہ پیار کے سوا میں کچھ نہ تم کو دے پایا
یوں تو قابل ہو، مگر تھوڑی نصیحت کر لوں
قبل اس کے کہ ہو بند آنکھ، وصیت کر لوں
آج شاید لگیں کڑوی، تمہیں نہ بھائیں گی
بعد میرے، میری باتیں، تمہیں یاد آئیں گی
شفقتِ پِدری میری، اعتناف کر دینا
جو ہو سکے مجھے بچو معاف کر دینا
جب تمہیں پہلے پہل سختیاں ستائیں گی
میرا قلم، یہ کتابیں تمہیں کام آئیں گی
بعد اللّٰه، میری آس، فقط تم ہی تو ہو
میری دولت، میری میراث، فقط تم ہی تو ہو
ہیرے موتی، کوئی کوٹھی نہ جائیداد کوئی
سِوائے رب! تیرا والی نہ میرے بعد کوئی
کفافِ عمرِ گُریزاں فقط ریاضت تھی
تمام عمر کمائی فقط شرافت تھی
حلال رزق عبادت سمجھ کے کام کیا
کبھی چڑھتے ہوئے سورج کو نہ سلام کیا
مُمتنع، آمدنِ زر بھی تو لا سکتا تھا
جو چاہتا تو میں دولت بھی کما سکتا تھا
اپنے اجداد سے سچائی کی عادت سیکھی
دیکھ کر ان کا صبر میں نے قناعت سیکھی
پاس جو میرے امانت تھی، وہ شفقت دی ہے
فاقے کر کے بھی تمہیں علم کی دولت دی ہے
میری محنت، میری عزت کا پاس رکھ لینا
درسِ اخلاق کو میرا سپاس رکھ لینا
بعد میرے، گھر کو ہے تم نے رکھنا سنبھال
بہن، بھائی کا اور ماں کا سدا رکھنا خیال
مشکلیں کیسی ہوں، مایوس نہ ہونا بیٹا
اپنے اسلاف کی اقدار نہ کھونا بیٹا
گرد کرسی سے کتابوں سے صاف کر دینا
جو ہو سکے مجھے بچو معاف کر دینا
شہزاد سمانا
No comments:
Post a Comment