بادل کا سندیسہ
آئے ہیں بادل، چھائے ہیں بادل
کس کا سندیسہ لائے ہیں بادل
باغ میں کوئل کوک اٹھی پھر
دل میں ہمارے ہوک اٹھی پھر
کون نگر سے آئے ہیں بادل
کس کا سندیسہ لائے ہیں بادل
بِرہہ کو کیوں برباد کیا ہے
ہم کو یہ کس نے یاد کیا ہے
یاد سی بن کر چھائے ہیں بادل
کس کا سندیسہ لائے ہیں بادل
پی بِن ہے برسات اندھیری
چھا گئی من پر رات اندھیری
ایسے سمے کیوں آئے ہیں بادل
کس کا سندیسہ لائے ہیں بادل
اختر شیرانی
No comments:
Post a Comment