Wednesday, 15 July 2020

ہنسنے سے ہوا ہے نہ یہ رونے سے ہوا ہے

ہنسنے سے ہوا ہے نہ یہ رونے سے ہوا ہے
دل اتنا حزیں عشق میں کھونے سے ہوا ہے
ممکن ہے کہ پورا ہو یہ دو چار برس میں
نقصان جو دنیا کا 'کرونے' سے ہوا ہے
بکھرے ہیں مِرے بال مِری شیو بڑھی ہے
یہ حال مسلسل مِرے سونے سے ہوا ہے
چہرہ مِرا روشن تھا، مگر اور بھی روشن
غزلوں میں تِرا نام پرونے سے ہوا ہے
خوشبو مِرے آنگن میں جو پھیلی ہے سرِ شام
یہ لان میں اک بیج کے بونے سے ہوا ہے
اس موذی وبا سے جو بچا ہوں میں ابھی تک
یہ کام قمر ہاتھوں کو دھونے سے ہوا ہے

قمر ریاض

No comments:

Post a Comment