Wednesday, 15 July 2020

پردیسی کی پریت

پردیسی کی پرِیت

پردیسی کی پریت ہے جھوٹی
جھوٹی پردیسی کی پرِیت
ہارے ہوئے کی جیت ہے جھوٹی
دنیا کی یہ ریت ہے جھوٹی
پردیسی کی پریت ہے جھوٹی
جھوٹی پردیسی کی پریت

پردیسی سے دل کا لگانا
بہتے پانی میں ہے نہانا
کوئی نہیں ندی کا ٹھکانا
رمتے جوگی کس کے میت
پردیسی کی پریت ہے جھوٹی
جھوٹی پردیسی کی پریت

اڑتی چڑیا گاتی جائے
میٹھا گیت مٹھاس بہائے
یوں پردیسی من کو لبھائے
اڑ گئی چڑیا، اڑ گیا گیت
پردیسی کی پریت ہے جھوٹی
جھوٹی پردیسی کی پریت

اختر شیرانی

No comments:

Post a Comment