Monday, 5 October 2020

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی

ساری دنیا پر جوانی آ گئی

آہ وہ اس کی نگاہ مے فروش

جب بھی اٹھی مستیاں برسا گئی

گیسوئے مشکیں میں وہ روئے حسیں

ابر میں بجلی سی اک لہرا گئی

عالم مستی کی توبہ، الاماں

پارسائی نشہ بن کر چھا گئی

آہ اس کی بے نیازی کی نظر

آرزو کیا پھول سی کمہلا گئی

ساز دل کو گدگدایا عشق نے

موت کو لے کر جوانی آ گئی

پارسائی کی جواں مرگی نہ پوچھ

توبہ کرنی تھی، کہ بدلی چھا گئی

اختر اس جان تمنا کی ادا

جب کبھی یاد آ گئی، تڑپا گئے


اختر شیرانی

No comments:

Post a Comment