کھینچ لیا اک شوخ ادا نے پھر سے عشق سرائے میں
کل جب اس کے پاس گیا میں شام کے گہرے سائے میں
جو بھی کہا تسلیم کیا، اور جو مانگا وہ سونپ دیا
سحر تھا اس کی بات میں یا کچھ گھول دیا تھا چائے میں
دھیرے دھیرے کان کے رستے دل کی تہہ میں اتر گئی
اس نے دل کی بات کہی تھی کچھ ایسے پیرائے میں
کتنے ورد وظیفے کر کے ایک سے جان چھڑائی تھی
پھر قتالہ آن بسی اک اور مِرے ہمسائے میں
اک زخموں کا بیوپاری ہے، اک مرہم کا کام کرے
فرق بس اتنا سا ہوتا ہے، اپنے اور پرائے میں
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment