Monday, 5 October 2020

کھینچ لیا اک شوخ ادا نے پھر سے عشق سرائے میں

 کھینچ لیا اک شوخ ادا نے پھر سے عشق سرائے میں

کل جب اس کے پاس گیا میں شام کے گہرے سائے میں

جو بھی کہا تسلیم کیا، اور جو مانگا وہ سونپ دیا

سحر تھا اس کی بات میں یا کچھ گھول دیا تھا چائے میں

دھیرے دھیرے کان کے رستے دل کی تہہ میں اتر گئی

اس نے دل کی بات کہی تھی کچھ ایسے پیرائے میں

کتنے ورد وظیفے کر کے ایک سے جان چھڑائی تھی

پھر قتالہ آن بسی اک اور مِرے ہمسائے میں

اک زخموں کا بیوپاری ہے، اک مرہم کا کام کرے

فرق بس اتنا سا ہوتا ہے، اپنے اور پرائے میں


افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment