Saturday, 18 July 2020

بھول نہ جانا او پردیسی

پردیسی سے

بھول نہ جانا او پردیسی
او پردیسی بھول نہ جانا
پھر بھی آنا او پردیسی
او پردیسی پھر بھی آنا

چلتے رستے پریت لگائی
بھولے من پر آفت ڈھائی
ہوتی ہے کیا پِیڑ پرائی
یہ بھی نہ جانا او پردیسی
او پردیسی یہ بھی نہ جانا
بھول نہ جانا او پردیسی
او پردیسی بھول نہ جانا

میں تو تھی الھڑ بھولی بھالی
گاؤں کی سادہ رہنے والی
من تھا مورکھ پریم سے خالی
من تھا مورکھ تُو تھا سیانا
تُو تھا سیانا او پردیسی
بھول نہ جانا او پردیسی
او پردیسی بھول نہ جانا

شہر میں جا کر دل نہ لگانا
لوٹ کے پھر اِس گاؤں میں آنا
گاؤں ہی کا ہے پریم سہانا
پریم سہانا او پردیسی
او پردیسی پریم سہانا
بھول نہ جانا او پردیسی
او پردیسی بھول نہ جانا
پھر بھی آنا او پردیسی
او پردیسی پھر بھی آنا

اختر شیرانی

No comments:

Post a Comment