غم اور خوشی کے راستے آ کر جہاں ملے
کچھ مہرباں جدا ہوئے، کچھ مہرباں ملے
جن کے طفیل بزمِ تمنا میں رنگ تھا
وہ لوگ تجھ کو گردشِ دوراں کہاں ملے
راہوں پہ آج ان کا تصور بھی ہے گراں
اہل نظر سے دل کی مہم سر نہ ہو سکی
کچھ سرنگوں ملے ہیں تو کچھ سرگراں ملے
رودادِ" شوقِ "تشنۂ" اظہار ہی رہی"
ملنے کو ہم خیال ملے،۔ ہم زباں ملے
خوں رو رہے تھے کل جو بہاروں کی یاد میں
وہ "آج" بے "نیاز" غم "گلستاں" ملے
باقی نہ تھی اگرچہ فریبِ وفا کی تاب
پھر بھی رکے نقوشِ محبت جہاں ملے
باقی صدیقی
No comments:
Post a Comment