Saturday, 18 July 2020

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
اس چپ میں بھی ہے جی کا زیاں بولتے رہو
ہر یاد، ہر خیال ہے "لفظوں" کا سلسلہ
یہ محفلِ "نوا" ہے یہاں "بولتے" رہو
موج صدائے دل پہ رواں ہے حصار زیست
جس وقت تک ہے منہ میں زباں بولتے رہو
اپنا "لہو" ہی رنگ ہے، اپنی "تپش" ہی بو
ہو "فصلِ گل" کہ "دورِ خزاں" بولتے رہو
قدموں پہ "بار" ہوتے ہیں "سنسان" راستے
لمبا" سفر ہے "ہم سفراں" بولتے رہو"
ہے "زندگی" بھی "ٹوٹا" ہوا آئینہ تو کیا
تم بھی "بطرز" شیشہ "گراں" بولتے رہو
باقی جو چپ رہو گے تو اٹھیں گی انگلیاں
ہے "بولنا" بھی "رسم جہاں" بولتے رہو

باقی صدیقی

No comments:

Post a Comment