Monday, 13 July 2020

نہ بھولیں گی کبھی اے ہمنشیں راتیں جوانی کی

نہ بھولیں گی کبھی اے ہم نشیں، راتیں جوانی کی
وہ راتیں،۔ وہ ملاقاتیں،۔ وہ برساتیں جوانی کی
لبوں پر آہ، دل میں دھڑکنیں، آنکھوں میں اشکِ خوں
جوانی" لے کر آئی ہے یہ "سوغاتیں" جوانی کی"
یہ مرجھائی ہوئی کلیاں نہیں،۔ بے نور آنکھیں ہیں
بسی تھیں جن کے خوابوں میں کبھی راتیں جوانی کی
غمِ دنیا" ستم،۔ "افسردگئ دل"، "قیامت" ہے"
سنا اے "آرزوئے" رفتہ "پھر" باتیں "جوانی" کی
"ہوئی "مدت" پر اب بھی "یاد" آتی ہیں ہمیں "اختر
وہ" راتیں "عاشقی" کی، وہ "مناجاتیں جوانی" کی"

اختر شیرانی

No comments:

Post a Comment