نہ بھولیں گی کبھی اے ہم نشیں، راتیں جوانی کی
وہ راتیں،۔ وہ ملاقاتیں،۔ وہ برساتیں جوانی کی
لبوں پر آہ، دل میں دھڑکنیں، آنکھوں میں اشکِ خوں
جوانی" لے کر آئی ہے یہ "سوغاتیں" جوانی کی"
یہ مرجھائی ہوئی کلیاں نہیں،۔ بے نور آنکھیں ہیں
غمِ دنیا" ستم،۔ "افسردگئ دل"، "قیامت" ہے"
سنا اے "آرزوئے" رفتہ "پھر" باتیں "جوانی" کی
"ہوئی "مدت" پر اب بھی "یاد" آتی ہیں ہمیں "اختر
وہ" راتیں "عاشقی" کی، وہ "مناجاتیں جوانی" کی"
اختر شیرانی
No comments:
Post a Comment