دیکھ کر اس "حسیں" پیکر کو
نشہ" سا آ گیا "سمندر" کو"
"ڈولتی، "ڈگمگاتی" سی "ناؤ
پی گئی آ کے سارے سمندر کو
خشک پیڑوں میں جان پڑنے لگی
بہار "پیاسے" کی جستجو میں ہے
ہے "صدف" کی تلاش گوہر کو
کوئی" تو "نیم وا" دریچوں سے"
دیکھے اس "رتجگے" کے منظر کو
اک "دیوی" ہے "منتظر" فارغ
وا" کیۓ پت، سجائے "مندر" کو"
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment