Monday, 13 July 2020

دیکھ کر روپ کے سمندر کو

دیکھ کر اس "حسیں" پیکر کو
نشہ" سا آ گیا "سمندر" کو"
"ڈولتی، "ڈگمگاتی" سی "ناؤ
پی گئی آ کے سارے سمندر کو
خشک پیڑوں میں جان پڑنے لگی
دیکھ کر "روپ" کے سمندر کو
بہار "پیاسے" کی جستجو میں ہے
ہے "صدف" کی تلاش گوہر کو
کوئی" تو "نیم وا" دریچوں سے"
دیکھے اس "رتجگے" کے منظر کو
اک "دیوی" ہے "منتظر" فارغ
وا" کیۓ پت، سجائے "مندر" کو"

فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment