مجھ کو فراقِ یار نے پاگل بنا دیا
یعنی کہ انتظار نے پاگل بنا دیا
شاعر بنے ہوئے ہیں سبھی شہر کے مکین
سب کو تمہارے پیار نے پاگل بنا دیا
مجھ کو برائے شوق بھی رنگیں اداؤں سے
جانِ وفا شعار نے پاگل بنا دیا
غربت نشیبِ بخت کا کانٹا بھی ہے مگر
لوگوں کو روزگار نے پاگل بنا دیا
تم مجھ کو چاہتی ہو یا میرے رقیب کو
مجھ کو اسی بچار نے پاگل بنا دیا
اب ہم کو التمش بہ خلوصِ لحاظِ جان
مرضِ دلِ فگار نے پاگل بنا دیا
رانا التمش
No comments:
Post a Comment