Saturday, 10 April 2021

وہ جانتا ہے اس کی دلیلوں میں دم نہیں

 وہ جانتا ہے اس کی دلیلوں میں دم نہیں

پھر بھی مباحثوں کا اسے شوق کم نہیں

پوچھو ذرا یہ کون سی دنیا سے آئے ہیں

کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں کوئی غم نہیں

کس کس کے احترام میں سر کو جھکاؤں میں

میرے علاوہ کون یہاں محترم نہیں

ملتا ہے جن سے راہ نوردوں کو حوصلہ

میرے لئے وہ لوگ بھی منزل سے کم نہیں

ہم کاروبارِ دل کو کہیں کس طرح غلط

ہوں گے بہت سے لوگ خسارے میں ہم نہیں


عقیل نعمانی

No comments:

Post a Comment