Tuesday, 8 November 2016

رات آنکھوں کے دریچوں میں سجا دی گئی ہے

رات آنکھوں کے دریچوں میں سجا دی گئی ہے
یہ مجھے جاگتے رہنے کی سزا دی گئی ہے 
ایک صورت تھی مِرے عشق کا سرمایۂ کل 
اور وہ شکل تھی تیری سو بھلا دی گئی ہے 
اب کہاں جاؤں میں خوابوں کی پرستش کرنے
میرے اندر کوئی مسجد تھی جو ڈھا دی گئی ہے 
بھاگ کر مجھ میں آتے ہیں یہ وحشت کے غزال 
کیا مِرے دشت میں دیوار اٹھا دی گئی ہے 
سب جہانوں کو سمیٹا گیا میری خاطر 
بن گیا میں تو مِری خاک اڑا دی گئی ہے 

سالم سلیم

No comments:

Post a Comment