رات آنکھوں کے دریچوں میں سجا دی گئی ہے
یہ مجھے جاگتے رہنے کی سزا دی گئی ہے
ایک صورت تھی مِرے عشق کا سرمایۂ کل
اور وہ شکل تھی تیری سو بھلا دی گئی ہے
اب کہاں جاؤں میں خوابوں کی پرستش کرنے
بھاگ کر مجھ میں آتے ہیں یہ وحشت کے غزال
کیا مِرے دشت میں دیوار اٹھا دی گئی ہے
سب جہانوں کو سمیٹا گیا میری خاطر
بن گیا میں تو مِری خاک اڑا دی گئی ہے
سالم سلیم
No comments:
Post a Comment