ہنگامۂ سکوت بپا کر چکے ہیں ہم
اک عمر اس گلی میں صدا کر چکے ہیں ہم
اپنے غزالِ دل کا نہیں مل رہا سراغ
صحرا سے شہر تک تو پتہ کر چکے ہیں ہم
اب تیشۂ نظر سے یہ دل ٹوٹتا نہیں
ہر بارا پنے پاؤں خلا میں اٹک گئے
سو بار خود کو رزقِ ہوا کر چکے ہیں ہم
اب اس کے بعد کچھ بھی نہیں اختیار میں
وہ جبر تھا کہ خود کو خدا کر چکے ہیں ہم
سالم سلیم
No comments:
Post a Comment