کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے
اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے
مجھ پہ کھلتا ہے تِری یاد کا جب بابِ طلسم
تنگ ہو جاتا ہوں احساسِ فراوانی سے
آخر کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے
دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے
میری مٹی میں کوئی آگ سی لگ جاتی ہے
جو بھڑکتی ہے تِرے چھڑکے ہوئے پانی سے
تھا مجھے زعم کہ مشکل سے بندھی ہے مِری ذات
میں تو کُھلتا گیا اس پر بڑی آسانی سے
سالم سلیم
No comments:
Post a Comment