Saturday, 18 September 2021

کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے

 کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے 

اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے 

مجھ پہ کھلتا ہے تِری یاد کا جب بابِ طلسم 

تنگ ہو جاتا ہوں احساسِ فراوانی سے 

آخر  کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے 

دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے 

میری مٹی میں کوئی آگ سی لگ جاتی ہے

جو بھڑکتی ہے تِرے چھڑکے ہوئے پانی سے

تھا مجھے زعم کہ مشکل سے بندھی ہے مِری ذات

میں تو کُھلتا گیا اس پر بڑی آسانی سے


سالم سلیم

No comments:

Post a Comment