Saturday, 18 September 2021

جدائی کا فسانہ ہے محبت کی کہانی ہے

 جدائی کا فسانہ ہے، محبت کی کہانی ہے

نہ اُس نے بات مانی ہے نہ میں نے ہار مانی ہے

کسی تلوار کی زد پر تو ہم دونوں ہی آئے ہیں

تجھے پہلو بچانا ہے، مجھے پگڑی بچانی ہے

کھڑے ہیں ایک مدت سے جدائی کے کٹہرے میں

اُدھر سے کج ادائی ہے، اِدھر سے بدگمانی ہے

ارادے باندھ کر نکلا ہوں میں تعمیر کے لیکن

کہیں ٹوٹا ہوا دل ہے، کہیں مسجد پرانی ہے

عجب بے چہرگی کی دھند ہے چاروں طرف شاہد

کسی آسیب کی بستی پہ گویا حکمرانی ہے


افتخار شاہد

No comments:

Post a Comment