Sunday, 9 October 2016

اک نئے شہر خوش آثار کی بیماری ہے

اک نئے شہرِ خوش آثار کی بیماری ہے 
دشت میں بھی در و دیوار کی بیماری ہے
ایک ہی موت بھلا کیسے کرے اِس کا علاج 
زندگانی ہے کہ سو بار کی بیماری ہے 
بس اِسی وجہ سے قائم ہے مِری صحتِ عشق 
یہ جو مجھ کو تِرے دیدار کی بیماری ہے
لوگ اقرار کرانے پہ تُلے ہیں کہ مجھے 
اپنے ہی آپ سے انکار کی بیماری ہے
گھر میں رکھتا ہوں اگر شور مچاتی ہے بہت 
میری تنہائی کو بازار کی بیماری ہے
یہ جو زخموں کی طرح لفظ مہک اٹھتے ہیں
صرف اک صورتِ اظہار کی بیماری ہے

سالم سلیم

No comments:

Post a Comment