بڑھ گیا کچھ اور دل کا اضطراب
کیا ستم ہے اے نگاہ باریاب
بن گئی بجھتے تبسم کا شرار
وہ دم رخصت تِری چشم پر آب
اے خوشا وہ دل کہ جس کی ہر خلش
ہے مجسم کچھ سکوں کچھ اضطراب
رات کی نیندیں ہوئیں جن سے حرام
دیکھتا ہوں ان حسیں راتوں کے خواب
بے پیے رہتا تھا جب ہر دم سرور
ہائے وہ سرمستئ عہد شباب
نشۂدل سے لہکتا تھا چمن
آسمانوں سے برستی تھی شراب
موج نغمہ بن گئی تھی زندگی
بج رہے تھے دل میں طاؤس و رباب
وہ نگاہوں میں قیامت کا سکوں
وہ دھڑکتے دل میں حشر اضطراب
مدتیں گزریں مگر اب تک جمال
یاد ہے وہ جاگتی آنکھوں کا خواب
مسعود اختر جمال
No comments:
Post a Comment