وقت کے انتظار میں وہ ہے
جستجوئے شکار میں وہ ہے
سینۂ رازدار ہی میں نہیں
دیدۂ آشکار میں وہ ہے
آئینہ صاف ہو تو دیکھ اسے
نقشۂ دل فگار میں وہ ہے
اس کے قبضے میں کائنات سہی
فقراء کی قطار میں وہ ہے
سر پہ دستار فضل ہے لیکن
جبۂ تار تار میں وہ ہے
بیکراں ذہن و دل کی ہے وسعت
جسم و جاں کے حصار میں وہ ہے
اس کی چاروں طرف کتابیں ہیں
حلقۂ غمگسار میں وہ ہے
پیش ظالم صدائے حق یعنی
نرغۂ صد ہزار میں وہ ہے
قلعۂ بے بصر میں تم محفوظ
خود کلامی کے غار میں وہ ہے
خاک تم پا سکو گے خاک اسے
آب و باد و شرار میں وہ ہے
لمحہ ہائے سکوں میں اس کی تلاش
ساعت اضطرار میں وہ ہے
پیروی اس کی ہے عبث راہی
خود ہی راہ فرار میں وہ ہے
راہی فدائی
No comments:
Post a Comment