Wednesday, 10 May 2023

وقت کے انتظار میں وہ ہے

 وقت کے انتظار میں وہ ہے

جستجوئے شکار میں وہ ہے

سینۂ رازدار ہی میں نہیں

دیدۂ آشکار میں وہ ہے

آئینہ صاف ہو تو دیکھ اسے

نقشۂ دل فگار میں وہ ہے

اس کے قبضے میں کائنات سہی

فقراء کی قطار میں وہ ہے

سر پہ دستار فضل ہے لیکن

جبۂ تار تار میں وہ ہے

بیکراں ذہن و دل کی ہے وسعت

جسم و جاں کے حصار میں وہ ہے

اس کی چاروں طرف کتابیں ہیں

حلقۂ غمگسار میں وہ ہے

پیش ظالم صدائے حق یعنی

نرغۂ صد ہزار میں وہ ہے

قلعۂ بے بصر میں تم محفوظ

خود کلامی کے غار میں وہ ہے

خاک تم پا سکو گے خاک اسے

آب و باد و شرار میں وہ ہے

لمحہ ہائے سکوں میں اس کی تلاش

ساعت اضطرار میں وہ ہے

پیروی اس کی ہے عبث راہی

خود ہی راہ فرار میں وہ ہے


راہی فدائی

No comments:

Post a Comment