یوں اس کی بے وفائی کا مجھ کو گلا نہ تھا
اک میں ہی تو نہیں جِسے سب کچھ ملا نہ تھا
اٹھتا چلا گیا میری سوچوں کا کارواں
آکاش کی طرف کبھی وہ یوں اڑا نہ تھا
ماحول تھا وہی سدا، فطرت بھی تھی وہی
مجبور عادتوں سے تھا، آدم بُرا نہ تھا
جس درد کو چھپا رکھا مُسکان کے تلے
برسوں میں ایک بار بھی کم تو ہوا نہ تھا
ڈھوتے رہے ہیں بوجھ سدا تیرا زندگی
جینے میں لطف کیوں کوئی باقی بچا نہ تھا
کتنے نقاب اوڑھ کے دیوی دئیے فریب
جو بے نقاب کر سکے وہ آئینہ نہ تھا
دیوی ناگرانی
دیوی نانگرانی
No comments:
Post a Comment