Wednesday, 10 May 2023

جب تلک یہ حیات باقی ہے

 جب تلک یہ حیات باقی ہے

تب تلک کائنات باقی ہے

کٹ گئی عمر ہجر میں ساری

ہجر سے اب نجات باقی ہے

کربلا کی بھی یاد ہے زندہ

جب تلک یہ فرات باقی ہے

اب نجانے تمہیں ہے کیا جلدی

بات تو سن لو، بات باقی ہے

جو بچاتا ہے ہر بلا سے مجھے

میری ماں کا وہ ہاتھ باقی ہے

مجھ کو مرنے نہیں جو دیتی وہ

ایک ایسی ہی ذات باقی ہے

چھوڑ کے جاؤ مت مجھے شامی

اب ذرا سی حیات باقی ہے


مقصود احمد شامی

No comments:

Post a Comment