جب تلک یہ حیات باقی ہے
تب تلک کائنات باقی ہے
کٹ گئی عمر ہجر میں ساری
ہجر سے اب نجات باقی ہے
کربلا کی بھی یاد ہے زندہ
جب تلک یہ فرات باقی ہے
اب نجانے تمہیں ہے کیا جلدی
بات تو سن لو، بات باقی ہے
جو بچاتا ہے ہر بلا سے مجھے
میری ماں کا وہ ہاتھ باقی ہے
مجھ کو مرنے نہیں جو دیتی وہ
ایک ایسی ہی ذات باقی ہے
چھوڑ کے جاؤ مت مجھے شامی
اب ذرا سی حیات باقی ہے
مقصود احمد شامی
No comments:
Post a Comment