سفر میں رات ساری تھی
مگر صحرا نشینوں کے
مقدر کی زمینوں پر
شگوفے کُھل نہیں سکتے
ستارے مل نہیں سکتے
ہمیں تنہا ہی رہنا ہے
جُدائی کی فصیلوں پر
تمنّا کے جزیروں میں
مسافر چل نہیں سکتے
ستارے مل نہیں سکتے
محّبت کاٹ سکتی ہے
دلوں کے فاصلے لیکن
تِری مِری اَنا کے بُت
جگہ سے ہِل نہیں سکتے
ستارے مل نہیں سکتے
مریم عرفان
No comments:
Post a Comment