Saturday, 12 March 2022

ستارے مل نہیں سکتے

 سفر میں رات ساری تھی

مگر صحرا نشینوں کے

مقدر کی زمینوں پر

شگوفے کُھل نہیں سکتے

ستارے مل نہیں سکتے

ہمیں تنہا ہی رہنا ہے

جُدائی کی فصیلوں پر

تمنّا کے جزیروں میں

مسافر چل نہیں سکتے

ستارے مل نہیں سکتے

محّبت کاٹ سکتی ہے

دلوں کے فاصلے لیکن 

تِری مِری اَنا کے بُت

جگہ سے ہِل نہیں سکتے

ستارے مل نہیں سکتے


مریم عرفان

No comments:

Post a Comment