Saturday, 12 March 2022

بم نہیں سوچتا بم نہیں دیکھتا بم نہیں پوچھتا

 بم


کوئی کتنی مشقت سے پیدا ہوا

ایک قطرے کو گبرو جواں کرتے کرتے 

کسی کے بدن کا لہو لگ گیا

یا کوئی نیزہ قامت کماں بن گیا

بم نہیں سوچتا

اک جواں ہاتھ میں پکڑے سی وی سے لف

اعلیٰ ڈگری کے کاغذ پہ 

کنبے کی تقدیر ہے

ایک بس میں نفاست سے چلتی ہوئی ہوسٹس 

کے قرینے سے رکھے ہوئے

اجلے پیروں میں آٹے کی زنجیر ہے

بم نہیں دیکھتا

کوئی پنڈت ہے، فادر ہے، ملّاں ہے

یا کوئی پہنچا ہوا پیر ہے

بم نہیں پوچھتا

 کوئی زم زم سے دھویا ہوا ہے یا گنگا نہایا ہوا

بم نہیں سونگھتا

بم کو پہنے ہوئے 

خوبرُو نوجوانوں کی آنکھوں میں

جو سبز باغوں کا نقشہ ہے، وہ باغ ہیں

بم نہیں مانتا

بم جو پھٹتا ہے تو مسجدوں، مندروں، 

کوٹھیوں، گاڑیوں، گھونسلوں

چھوٹے بچوں، بزرگوں، خرد مند ذہنوں

اور احمق دماغوں کو کھا جاتا ہے

بم پہ حیرت نہیں

بم سے شکوہ

بم کی آنکھیں نہیں 

بم تو بے جان ہے

مجھ کو حیرت ہے تو بس اسی بات پر

بم پہ اترانے والا تو انسان ہے

وہ نہیں سوچتا

کیوں نہیں سوچتا


شعیب کیانی

No comments:

Post a Comment