جب سے ہے بادِ خزاں صرصرِ غم آوارہ
خشک پتوں کی طرح رہتے ہیں ہم، آوارہ
کچھ تو ہے بات کہ ہے موسمِ گل کے با وصف
بوئے گل، بوئے صبا، بوئے صنم، آوارہ
کنج در کنج ستم خوردہ غزالوں کو ابھی
تا بہ کے، رکھے گی یہ لذتِ رم آوارہ
حجلۂ سنگ سرِ رہ میں نہ جانے کتنے
رونمائی کو ہیں بے تاب صنم، آوارہ
ہے غم زیست کا یا سوزِ محبت کا صلہ
عارضِ گل پہ جو ہے گوہرِ نم آوارہ
رنگِ عارض کو تمازت سے بچانے کیلئے
رخ پہ لہرایا ہوا ابرِ کرم، آوارہ
ادیب سہیل
No comments:
Post a Comment