Saturday, 12 March 2022

یہاں خواب سکوں پرور میں بھی بیداریاں دیکھیں

 کشمیر


یہاں خواب سکوں پرور میں بھی بیداریاں دیکھیں

یہاں ہر ہوشیاری میں نئی سرشاریاں دیکھیں

یہاں کی گھاٹیوں میں حسن کے چشمے ابلتے ہیں

یہاں ہر چیز پر جذبات انسانی مچلتے ہیں

پریشاں منظری میں بھی یہاں فطرت سنورتی ہے

خموشی میں بھی اک موج ترنم رقص کرتی ہے

وہ شالیمار کی رنگینیوں میں حسن کا جادو

وہ دنیائے شباب و شعر وہ گلزار رنگ و بو

نشاط روح افزا کی فضاؤں میں وہ رنگینی

وہ فواروں کی نغمہ‌ سازیوں میں کیف خود بینی

وہ جوبن چشمۂ شاہی کی دوشیزہ بہاروں کا

کہ گل پھولے ہیں یا جھرمٹ اتر آیا ستاروں کا

وہ اونچے پربت اور ان پر وہ بل کھاتی ہوئی راہیں

وہ ہر وادئ تمنا‌‌ خیز پھیلائی ہوئی باہیں

صنوبر کی گھنی شاخوں کا وہ کیف آفریں سایہ

کہ جس میں اضطراب زندگی نے بھی سکوں پایا

جدھر دیکھا ادھر اک چشمۂ برفاب ہی دیکھا

نگاہوں نے مِری اک منظر سیماب ہی دیکھا

سرِ غرب وہ اپنی سیر پانی پر شکاروں میں

خزاں کا وہم بھی اک پاپ ہے ایسی بہاروں میں

یہاں پانی کے دھارے پر چراغ زیست جلتے ہیں

یہاں موجوں کی گودی میں کئی ملاح پلتے ہیں

کناروں کے وہ برقی قمقموں کا عکس پانی میں

کہ جیسے بجلیاں تڑپیں تخیل کی روانی میں

جلو خانے ہیں فطرت کے کہ یہ رنگیں فضائیں ہیں

یہ موجیں کوثر و تسنیم کی ہیں یا ہوائیں ہیں

نگاہیں جس طرف اٹھتی ہیں شعرستان ہے منظر

لطافت سے بھرا موسیقیوں کی جان ہے منظر

میں حیراں ہوں کہ اس خطے کو کیوں کر سرزمیں کہئے

صداقت کا تقاضا ہے کہ فردوسِ بریں کہئے


میکش اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment