Saturday, 12 March 2022

بیٹھے بیٹھے دل میں اک شاعر کے آیا یہ خیال

 مکینک شاعر


بیٹھے بیٹھے دل میں اک شاعر کے آیا یہ خیال

شاعری سے بڑھ کے بھی دنیا کو دکھلائے کمال

روشنی میں شمس کی ڈھونڈا تو سانچہ مل گیا

اتفاقاً اس کو اک موٹر کا ڈھانچہ مل گیا

ٹیوب ٹائر برسٹ اور انجن کی حالت تھی خراب

بجتے تھے مڈگارڈ جیسے بجتے ہیں چنگ و رباب

کچھ کلچ میں تھی خرابی اور ٹوٹے تھے بریک

سر سے پا تک اسکرو ڈھیلا تھا اس کا ایک ایک

اس کے بیرنگ گل چکے تھے اور گجن پن تھے خراب

یعنی سورج کی طرح ڈھلتا ہی جاتا تھا شباب

راستے سے اس کے لوگوں کو ہٹانے سے تھا کام

یوں سوائے ہارن کے بجتے تھے کل پرزے تمام

اور یہ عالم تھا جہاں بھی روکنا مقصود ہو

بس اسی انداز سے پٹرول اس میں ڈال دو

یا کسی بجلی کے کھمبے ہی سے ٹکرا دو اسے

دو طریقوں میں سے جیسے چاہو ٹھہرا لو اسے

جب ہوئی اسٹارٹ تو سمجھو قیامت آ گئی

جو بھی اس موٹر میں بیٹھا اس کی شامت آ گئی

بیٹھنے والوں کا اکثر راہ میں ہوتا تھا کھیل

ایک کہتا تھا کہ ہاں میں بیٹھتا ہوں تو دھکیل

اس کے کل پرزے بھی اور سامان بھی کمیاب تھا

اس کا آرڈر ہی میں آ جانا خیال و خواب تھا

جس نے اس موٹر کو دیکھا عقل اس کی خبط تھی

سوچتے تھے دل میں یہ حضرت کہ اب کیا کیجئے

الغرض طے کر لیا پرزوں کا چندا کیجئے

ایکسل تو فورڈ سے پسٹن بھی سٹرن سے لیے

اور خوشامد کر کے ٹائر ٹیوب مچلن سے لیے

مانگ لی باڈی فیٹ سے اور پرزے بھی ملے

ریڈی ایٹر آسٹن سے ہارن شیورلیٹ سے

بیٹری تو بیوک کی لی اور سلنڈر ڈاج کا

اک پرانا میگنٹ اسٹوڈی بیکر نے دیا

اوکلینڈ کا بھی پرانا سا گیئر بکس آ گیا

تن کے ڈھکنے کے لیے مورس کا بونٹ چھا گیا

ہاں ہماری سائیکل نے بھی کیا یہ کارِ نیک

رحم کھا کر اس کو اپنے دے دئیے دونوں بریک

سارے کل پرزے فراہم ہو چکے جب ایک ساتھ

ان کے فٹ کرنے کو اٹھا شاعر رنگیں کا ہاتھ

رات کو دو دو بجے تک ٹھوکا پیٹی سے تھا کام

جس کے باعث نیند ہمسایوں کی ہوتی تھی حرام

ایک بے جاں چیز سے سچی محبت دیکھ کر

رہ گئے حیرت میں سب شاعر کی جدت دیکھ کر

بات بگڑی تھی کہاں پر اور کہاں پر بن گئی

اس طرح سے ڈاکٹر یاور کی موٹر بن گئی


ظریف جبلپوری

No comments:

Post a Comment