Saturday, 12 March 2022

ہنسو قہقہے لگاؤ میرے ساتھ

 ہنسو

قہقہے لگاؤ میرے ساتھ

ہماری آواز پہاڑوں میں گونجی چاہیے

ہماری آواز تاریخ کے سیاہ پنوں پر لکھی جائے

وہاں لکھا جانا چاہیے؛

غیر مانوس آواز نے خاموشی کی دیواروں میں 

شگاف پیدا کیے

یہ مایوس اور محروم بچوں کی 

افزائش نسل سے افضل ہے

مجھ سے بات کرو

تمہاری خاموشی کا دورانیہ بڑھتا جا رہا ہے

دل دھڑکنے کی آواز کا تال میل نہیں بن رہا

چاند سورج کا پیچھا کرتے ہوئے تھک گیا ہے

فریکوئنسی بدل رہی ہے

ہم اشارے سے بات کر سکتے ہیں

ہمارے لیے

شیشے کی دیوار کو توڑنا ممکن نہیں

میرے ساتھ چلو

مجھے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش مت کرو

راستہ مسافر کے ساتھ ساتھ چلتا ہے

گھر کے دروازے تک

مگر اندر داخل نہیں ہوسکتا

میرے ساتھ رو لو

میرے ساتھ رو لو مگر 

سسکیاں جسم سے باہر نہیں آنی چاہیے

یہ محبت کی اولین شرائط میں سے ایک ہے

دریا کو سلیقے سے بہنا چاہیے

یہ دونوں دریا اپنے ہیں

آس پاس کے کھیت ہمارے نہیں

کسی اور مالک کی ہے

تم رونے سے پہلے سوچو

فصل کو عزیز رکھنا ہے یا بہاؤ کو

آنسوؤں کی زنجیر سے بھاری پتھروں کو 

اپنی طرف نہ کھینچو

آنکھوں پر اتنا بوجھ ڈالو 

جس قدر برداشت کر سکیں

روشنی کو اتنی دیر تک نہ دیکھو

بینائی چلی جائے گی


خوش بخت بانو

No comments:

Post a Comment