Wednesday, 21 July 2021

ہجر میں تیرے ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے

 ہجر میں تیرے ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے

خالی کمرہ سائیں سائیں کرتا ہے

اشکوں کی صورت آنکھوں کے ساحل پر

روز نیا اک لشکر آن اترتا ہے

دنیا نے دل کو اور دل نے دنیا کو

دونوں نے ہی اپنے طور پہ برتا ہے

جن آنکھوں میں اشک آ جائیں عصر کے بعد

ان آنکھوں میں سورج ڈوب کے مرتا ہے

عشق میں جینا بھی پڑ سکتا ہے تاثیر

عشق کیا ہے تو کاہے کو ڈرتا ہے


تاثیر جعفری

No comments:

Post a Comment