Friday, 10 December 2021

قدم یوں بے خطر ہو کر نہ میخانے میں رکھ دینا

 قدم یوں بے خطر ہو کر نہ مے خانے میں رکھ دینا

بہت مشکل ہے جان و دل کو نذرانے میں رکھ دینا

سنا ہے حضرتِ واعظ ادھر تشریف لائیں گے

ذرا اس کاسۂ گردوں کو مے خانے میں رکھ دینا

بتوں کے دل میں یوں شاید خدا کا خوف پیدا ہو

یہ میرے دل کے ٹکڑے جا کے بتخانے میں رکھ دینا

یہاں اے دل!! فرشتوں کا بھی زہرہ آب ہوتا ہے

قدم آساں نہیں الفت کے ویرانے میں رکھ دینا

چلا ہے گھر کو دیوانہ اڑا کر خاک صحرا کی

غبارِ خاطرِ احباب کاشانے میں رکھ دینا

زیارت کو وہ دشتِ نجد کا جاں باز آئے گا

ذرا دم بھر کو میری نعش ویرانے میں رکھ دینا

بفیضِ حضرتِ ناصح ہوئی توفیق توبہ کی

مِرا جامِ شکستہ ان کے شکرانے میں رکھ دینا

منافی تھا یہ اے منصور!! دستور امانت کے

کسی کی بات کو یوں اپنے بیگانے میں رکھ دینا

پلائی ہے جو واصف کو مے، مرد آزما ساقی

تو کچھ شانِ خودی بھی اپنے دیوانے میں رکھ دینا


واصف دہلوی

No comments:

Post a Comment