خار اور طرح کے ہیں، گلاب اور طرح کے
اس دشت میں دیکھے ہیں سرا ب اور طرح کے
جب آنکھ کھلی، سامنے تعبیر تھی کچھ اور
وہ ہم کو دکھاتے رہے خواب اور طرح کے
اس میں تو پڑھی جاتی ہیں چہروں کی کتابیں
اس مکتبِ دل کے ہیں نصاب اور طرح کے
جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے نہیں واعظ
اعمال ہیں کچھ اور، خطاب اور طرح کے
کچھ اور طرح تھے سوال ان سے ہمارے
دیتے رہے وہ ہم کو جواب اور طرح کے
آزاد تو ہیں پھر بھی غلاموں کی طرح ہیں
اب ہم پہ اترتے ہیں عذاب اور طرح کے
دے پائے نہ ہم ساتھ ترا اس لیے آصف
ہم اور طرح کے تھے، جناب اور طرح کے
آصف راز
No comments:
Post a Comment