Friday, 10 December 2021

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

 اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

تو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتا

وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ

وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا

بھٹک رہے ہیں مسافر، تو راستے گم ہیں

اندھیری رات میں دیپک کوئی جلا رکھتا

مہک مہک کے بکھرتی ہیں اس کے آنگن میں

وہ اپنے گھر کا دریچہ اگر کھلا رکھتا

اگر وہ چاند کی بستی کا رہنے والا تھا

تو اپنے ساتھ ستاروں کا قافلہ رکھتا

جسے خبر نہیں خود اپنی ذات کی زریں

وہ دوسروں کا بھلا کس طرح پتا رکھتا


عفت زریں

No comments:

Post a Comment