کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا
کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہو گا
نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہو گا
نظر جب کامراں ہو گی تو اے دل تو کہاں ہو گا
وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہو گا
جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہو گا
لرز جائیں گے یہ مظلومی دل کے تماشائی
اگر یہ خاک کا تو وہ کبھی آتش فشاں ہو گا
جو سوز دل سے مضطر ہو کے آئے گا سر مژگاں
تو خورشید قیامت میرا اشک خونچکاں ہو گا
ستارے بن کے چمکیں گے دل برباد کے ذرے
یہ دل برباد ہو کر بھی دلیل کارواں ہو گا
واصف دہلوی
No comments:
Post a Comment