Thursday, 3 November 2022

کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا

 کبھی درد آشنا تیرا بھی قلب شادماں ہو گا

کبھی نام خدا تو بھی تو اے کم سن جواں ہو گا

نہیں معلوم ان کی جلوہ گہ میں کیا سماں ہو گا

نظر جب کامراں ہو گی تو اے دل تو کہاں ہو گا

وہی اک سانس مدہوش حیات جاوداں ہو گا

جو آہ سرد بن کر سوز غم کا ترجماں ہو گا

لرز جائیں گے یہ مظلومی دل کے تماشائی

اگر یہ خاک کا تو وہ کبھی آتش فشاں ہو گا

جو سوز دل سے مضطر ہو کے آئے گا سر مژگاں

تو خورشید قیامت میرا اشک خونچکاں ہو گا

ستارے بن کے چمکیں گے دل برباد کے ذرے

یہ دل برباد ہو کر بھی دلیل کارواں ہو گا


واصف دہلوی

No comments:

Post a Comment