Tuesday, 13 December 2016

ملتے رہے ہیں داغ جو بدلے میں پیار کے

ملتے رہے ہیں داغ جو بدلے میں پیار کے
روشن ہیں یہ چراغ ہر اک یادگار کے
دن کے قرار، رات کی نیندوں کو کھا گئے
سوز و گداز عشق کے لیل و نہار کے
ہم جانتے ہیں صبحِ قیامت کی بے کلی
جھیلے ہم نے دکھ جو شبِ انتظار کے
گرداب نے بپھر کے سفینہ ڈبو دیا
دیکھا ہے ناخدا کو بھی ہم نے پکار کے
ان کو فراق و وصل کی لذت کی کیا خبر
بیٹھے نہ دو گھڑی بھی جو پہلو میں یار کے
رندوں نے مۓ کدوں کو مدرسہ سمجھ لیا
لے آئے شیخ جی کو یہاں گھیر گھار کے
سینے میں یہ جو عشق چراغاں کا سماں ہے
چرکے بھڑک اٹھے ہیں غمِ روزگار کے
صحنِ چمن میں بلبل و گلبرگِ شاخسار
مدت سے منتظر ہیں نسیمِ بہار کے​

اختر ضیائی

No comments:

Post a Comment