ملتے رہے ہیں داغ جو بدلے میں پیار کے
روشن ہیں یہ چراغ ہر اک یادگار کے
دن کے قرار، رات کی نیندوں کو کھا گئے
سوز و گداز عشق کے لیل و نہار کے
ہم جانتے ہیں صبحِ قیامت کی بے کلی
گرداب نے بپھر کے سفینہ ڈبو دیا
دیکھا ہے ناخدا کو بھی ہم نے پکار کے
ان کو فراق و وصل کی لذت کی کیا خبر
بیٹھے نہ دو گھڑی بھی جو پہلو میں یار کے
رندوں نے مۓ کدوں کو مدرسہ سمجھ لیا
لے آئے شیخ جی کو یہاں گھیر گھار کے
سینے میں یہ جو عشق چراغاں کا سماں ہے
چرکے بھڑک اٹھے ہیں غمِ روزگار کے
صحنِ چمن میں بلبل و گلبرگِ شاخسار
مدت سے منتظر ہیں نسیمِ بہار کے
اختر ضیائی
No comments:
Post a Comment