چہرے کی دھوپ زلف کے سائے سمٹ گئے
پل کی جھپک میں وصل کے ایام کٹ گئے
اور مصلحت شناس تیرا کھل گیا بھرم
لے ہم ہی تیرے پیار کے رستے سے ہٹ گئے
پاسِ ادب کہ پاسِ مروت کہیں اسے
پائی نہ پھر بتوں نے وہ یکسانیِ الست
رنگوں میں بٹ گئے کبھی شکلوں میں بٹ گئے
گلشن میں چل گیا ہے بدلتی رُتوں کا سحر
نغمے ابل پڑے کبھی ملبوس پھٹ گئے
گزری چمن سے موجِ صبا ناچتی ہوئی
کانٹے مچل کے دامنِ گل سے لپٹ گئے
اختؔر وہ شوقِ دید کی لذت، وہ بے کلی
آ کر گئے وہاں، کبھی جا کر پلٹ گئے
اختر ضیائی
No comments:
Post a Comment