Tuesday, 13 December 2016

چہرے کی دھوپ زلف کے سائے سمٹ گئے

چہرے کی دھوپ زلف کے سائے سمٹ گئے
پل کی جھپک میں وصل کے ایام کٹ گئے
اور مصلحت شناس تیرا کھل گیا بھرم
لے ہم ہی تیرے پیار کے رستے سے ہٹ گئے
پاسِ ادب کہ پاسِ مروت کہیں اسے
اکثر لبوں تک آئے گِلے اور پلٹ گئے
پائی نہ پھر بتوں نے وہ یکسانیِ الست
رنگوں میں بٹ گئے کبھی شکلوں میں بٹ گئے
گلشن میں چل گیا ہے بدلتی رُتوں کا سحر
نغمے ابل پڑے کبھی ملبوس پھٹ گئے
گزری چمن سے موجِ صبا ناچتی ہوئی
کانٹے مچل کے دامنِ گل سے لپٹ گئے
اختؔر وہ شوقِ دید کی لذت، وہ بے کلی
آ کر گئے وہاں، کبھی جا کر پلٹ گئے

اختر ضیائی

No comments:

Post a Comment