سو جام سے چھلکا گئے یہ موتیوں والے
اشعار مِرے گا گئے یہ موتیوں والے
احساس پہ یوں چھا گئے یہ موتیوں والے
دل تک بھی مِرے آ گئے یہ موتیوں والے
ان آنکھوں میں جو نشہ ہے وہ مۓ میں کہاں ہے
تڑپایا کیے ایسی اداؤں سے شب و روز
اٹھ کر گئے، پھر آ گئے یہ موتیوں والے
چنتا ہی رہا آج میں پھول ان کی ہنسی کے
سانسیں مِری مہکا گئے یہ موتیوں والے
صابر دت
No comments:
Post a Comment