محفل میں چلے آئے چاندی سے بدن والے
پائل کی جھنکار لائے چاندی سے بدن والے
زلفوں میں گھٹا بکھری، ہاتھوں میں حنا مہکی
یوں ٹوٹ کے لہرائے چاندی سے بدن والے
کاجل کی لکیریں بجلی کی طرح ٹوٹیں
آئینے میں بکھرا تھا، ہر عکسِ بدن اس کا
کیا دیکھ کے اترائے چاندی سے بدن والے
مٹی کے سوا کیا تھا صابرؔ مِری کٹیا میں
یہ کیسے چلے آئے چاندی سے بدن والے
صابر دت
No comments:
Post a Comment