Tuesday, 13 December 2016

محفل میں چلے آئے چاندی سے بدن والے

محفل میں چلے آئے چاندی سے بدن والے
پائل کی جھنکار لائے چاندی سے بدن والے
زلفوں میں گھٹا بکھری، ہاتھوں میں حنا مہکی
یوں ٹوٹ کے لہرائے چاندی سے بدن والے
کاجل کی لکیریں بجلی کی طرح ٹوٹیں
جب آنکھ سے مسکائے چاندی سے بدن والے
آئینے میں بکھرا تھا، ہر عکسِ بدن اس کا
کیا دیکھ کے اترائے چاندی سے بدن والے
مٹی کے سوا کیا تھا صابرؔ مِری کٹیا میں
یہ کیسے چلے آئے چاندی سے بدن والے

صابر دت

No comments:

Post a Comment