Sunday, 6 November 2016

اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو

اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو
دور تلک بس کچھ نہ ہو حیرانی ہو
کچھ برباد زمینیں ہوں آبادی میں
کچھ آباد مکانوں میں ویرانی ہو
ویرانی کی گرد چھٹے اور تُو آئے
تُو آئے اور ایک نئی ویرانی ہو
خاموشی آواز کی صورت بول پڑے
دریاؤں نے پیاس کی چادر تانی ہو
اس کی آنکھوں میں ایسی سیرابی ہے
گھڑے کے اندر جیسے ٹھنڈا پانی ہو
درد نہ ہو اور زخم نمو پاتا جائے
نیند نہ ہو اور خوابوں کی ارزانی ہو
ہوس پوره کے باشندے اے پاگل دل 
وحشت کر جس وحشت میں نادانی ہو

حماد نیازی

No comments:

Post a Comment