اک منظر میں ایسی بھی آسانی ہو
دور تلک بس کچھ نہ ہو حیرانی ہو
کچھ برباد زمینیں ہوں آبادی میں
کچھ آباد مکانوں میں ویرانی ہو
ویرانی کی گرد چھٹے اور تُو آئے
خاموشی آواز کی صورت بول پڑے
دریاؤں نے پیاس کی چادر تانی ہو
اس کی آنکھوں میں ایسی سیرابی ہے
گھڑے کے اندر جیسے ٹھنڈا پانی ہو
درد نہ ہو اور زخم نمو پاتا جائے
نیند نہ ہو اور خوابوں کی ارزانی ہو
ہوس پوره کے باشندے اے پاگل دل
وحشت کر جس وحشت میں نادانی ہو
حماد نیازی
No comments:
Post a Comment